دست بالا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غالب، مسلط، حاوی۔ "یہ دولت سبز و شیریں ہے . اور اس کی مثال اوس شخص کی جیسی ہے جو کھاتا چلاتا جاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ دست بالا دست زیریں سے بہتر ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣١٦:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دست' کے کسرۂ صفت لگا کر فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'بالا' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩١٤ء سے "سیرۃ النبیۖ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غالب، مسلط، حاوی۔ "یہ دولت سبز و شیریں ہے . اور اس کی مثال اوس شخص کی جیسی ہے جو کھاتا چلاتا جاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ دست بالا دست زیریں سے بہتر ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣١٦:٢ )

جنس: مذکر